ریاض کی پیدائش اپریل 1985 میں ہوئی اسکے والد کی ٹیلیرنگ کی چھوٹی سی دکان تھی – ریاض نیکو کو پڑھنے کو شوق جنون کی حد تک تھا – بارہویں جماعت میں ریاض نے %77 نمبرحاصل کیئے – اسے گریجویشن سائنس میں کرنا تھا mathematics کے ساتھ. ریاض ایک پرایئویٹ اسکول میں maths پڑھاتا تھا ساتھ وہ maths کی ٹیوشنز بھی پڑھاتا
طالب علم طفیل مٹو کی پولیس کے ہاتھوں شہادت کے بعد ریاض نے مزاحمتی تحریک میں حصہ لیا – تحریک حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی شہادت کے بعد ریاض نیکو نے تحریک کی قیادت سنبھالی
۔۔۔۔‏ریاض کی تلاش 2018 میں پولیس نے اسکے والد کو حراست میں لیا – جس کے ردعمل میں نیکو نے گرفتار کرنے والے تمام پولیس اہلکاروں کے اہل خانہ کو اغوا کرنے کا حکم دیا – ایک درجن سے زائد اہلکاروں کے اہل خانہ اغوا ہوئے اور نیکو کے والد کی رہائی کے بدلے ان سب کو چھوڑ دیا گیا
۔۔۔۔‏اس کے بعد سے مقبوضہ کشمیر پولیس اور فوج کیلئے نیکو ایک ڈراونہ خواب بن گیا اسکے سر کی قیمت 12 لاکھ روپے مقرر کی گئی
بھارتی فوج نے نیکو کو تین دفعہ گرفتار کیا لیکن اسکے ساتھی تینوں دفعہ اسے چھڑا کر لیجانے میں کامیاب ہوگئے‏تاریخ گواہ ہے کے خون کا گرنا کبھی رائیگاں نہیں گیا، ریاض نیکو کی شہادت سے مقبوضہ کشمیر کے نوجوانوں کے حوصلے پست نہیں ہونگے – انکی جدوجہد بھارت سے آزادی تک جاری رہے ، جو زیادہ دور نہیں
اللہ پاک شہید ریاض نیکو کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائیں